EN हिंदी
ان کے گھر آنا نہیں جانا نہیں | شیح شیری
un ke ghar aana nahin jaana nahin

غزل

ان کے گھر آنا نہیں جانا نہیں

رشید رامپوری

;

ان کے گھر آنا نہیں جانا نہیں
مدتیں گزریں وہ یارانا نہیں

نزع میں وہ یہ تسلی دے گئے
موت بھی آئے تو گھبرانا نہیں

کیا رہے گا عشق میں ثابت قدم
دشت کوئی غیر نے چھانا نہیں

بے بلائے جاؤں اس محفل میں کیوں
گالیاں ناحق مجھے کھانا نہیں

میں وہی ہوں جس کو کہتے تھے رشیدؔ
تم نے اب تک مجھ کو پہچانا نہیں