EN हिंदी
عمر ابد سے خضر کو بے زار دیکھ کر | شیح شیری
umr-e-abad se KHizr ko be-zar dekh kar

غزل

عمر ابد سے خضر کو بے زار دیکھ کر

روش صدیقی

;

عمر ابد سے خضر کو بے زار دیکھ کر
خوش ہوں فسون نرگس بیمار دیکھ کر

کیا جلوہ‌ گاہ حسرت نظارہ ہے بہشت
حیراں ہوں صورت در و دیوار دیکھ کر

بادہ بقدر ظرف سہی رسم مے کدہ
ساقی نزاکت‌ دل مے خوار دیکھ کر

اب جستجوئے دوست کی منزل کہیں بھی ہو
ہم چل پڑے ہیں راہ کو دشوار دیکھ کر

شایان جرم عشق نہ تھی قید زندگی
جی شاد ہو گیا رسن و دار دیکھ کر

اب اس سے کیا غرض یہ حرم ہے کہ دیر ہے
بیٹھے ہیں ہم تو سایۂ دیوار دیکھ کر

اب حشر تک حجاب نشیں ہے نگاہ شوق
چھپنا تھا رنگ حسرت دیدار دیکھ کر

راز فروغ آخر شب کچھ نہ کھل سکا
کیوں خوش ہے شمع صبح کے آثار دیکھ کر

ساز غزل اٹھا ہی لیا ہم نے اے روشؔ
اس چشم نیم باز کا اصرار دیکھ کر