EN हिंदी
عمر بھر دنیا کو سمجھاتا رہا | شیح شیری
umr bhar duniya ko samjhata raha

غزل

عمر بھر دنیا کو سمجھاتا رہا

رئیس نیازی

;

عمر بھر دنیا کو سمجھاتا رہا
خود فریب زندگی کھاتا رہا

روشنی آنکھوں میں باقی تھی نہ تھی
وہ نظر میں تھا نظر آتا رہا

زندگی کیا تھی ترے جانے کے بعد
سانس تھا آتا رہا جاتا رہا

اس طرح ڈھونڈھوگے اک دن تم مجھے
جیسے کچھ کھویا گیا جاتا رہا

اپنی صورت ہی نہ پہچانی گئی
وقت آئینہ تو دکھلاتا رہا

اپنے ہی ٹوٹے کھلونوں سے رئیسؔ
زندگی بھر دل کو بہلاتا رہا