EN हिंदी
امیدوں کے پنچھی کے پر نکلیں گے | شیح شیری
ummidon ke panchhi ke par niklenge

غزل

امیدوں کے پنچھی کے پر نکلیں گے

پرتاپ سوم ونشی

;

امیدوں کے پنچھی کے پر نکلیں گے
میرے بچے مجھ سے بہتر نکلیں گے

لکشمن ریکھا بھی آخر کیا کر لے گی
سارے راون گھر کے اندر نکلیں گے

دل تو اسٹیشن کے رستے چلا گیا
پاؤں ہمارے تھوڑا سو کر نکلیں گے

اچھی اچھی باتیں تو سب کرتے ہیں
ان میں سے ہی بد سے بد تر نکلیں گے

بازاروں کے دستوروں سے واقف ہیں
سارے آنسو اندر ڈھک کر نکلیں گے

دل والے تو آہٹ پر چل دیتے ہیں
عقل کے بندے سوچ سمجھ کر نکلیں گے