EN हिंदी
الفت نہ کروں گا اب کسی کی | شیح شیری
ulfat na karunga ab kisi ki

غزل

الفت نہ کروں گا اب کسی کی

رند لکھنوی

;

الفت نہ کروں گا اب کسی کی
دشمن ہوا جس سے دوستی کی

حالت کہوں اپنی بے خودی کی
دل دے کے سنو جو میرے جی کی

اول اول بھلائیاں کیں
آخر آخر بہت بری کی

مصروف ہے سینہ کوبی میں دل
آتی ہے صدا دھڑا دھڑی کی

الفت پہ تیری خاتمہ ہے
اب لے لے قسم تو عاشقی کی

کرتے رہے اختراع آپھی
تقلید نہ کی کبھی کسی کی

رونے پہ میرے ہنستے ہیں آپ
ہنس لیجئے بات ہے ہنسی کی

کیوں کر نہ فریفتہ ہو انساں
تن حور کا شکل ہے پری کی

شیریں دہنو نہیں ہے زیبا
تم باتیں کرو نہ پھیکی پھیکی

دیوانہ ہوا ہوں اک پری کا
تقصیر یہ ہے تو واقعی کی

بے یار ہے دل کباب ساقی
تکلیف نہ کر تو مے کشی کی

آنکھیں لڑیں تجھ سے میں ہوا قتل
ان ترکوں نے جنگ زرگری کی

کرنے دو بدی جو کرتے ہیں غیر
سنتا نہیں رندؔ وہ کسی کی