EN हिंदी
اجڑے نگر میں شام کبھی کر لیا کریں | شیح شیری
ujDe nagar mein sham kabhi kar liya karen

غزل

اجڑے نگر میں شام کبھی کر لیا کریں

فاروق شفق

;

اجڑے نگر میں شام کبھی کر لیا کریں
مجھ سے دعا سلام کبھی کر لیا کریں

جنگل کے پھول ہی سہی لیکن ہیں کام کے
ساتھ ان کے بھی قیام کبھی کر لیا کریں

ہر راہ صاف سیدھی نہیں پر خطر بھی ہے
سورج چھپے تو شام کبھی کر لیا کریں

موسم ہے خوش گوار تو شاخیں بھی سر پہ ہیں
ان کا بھی احترام کبھی کر لیا کریں

کٹتا ہے وقت کیسے کسی کو گرایا جائے
کچھ کام کا بھی کام کبھی کر لیا کریں

شرکت تمام دعوتوں میں لازمی نہیں
لیکن کہیں تو نام کبھی کر لیا کریں

یہ سچ ہے آگے پیچھے شفقؔ دوست ہی تو ہیں
تلوار بے نیام کبھی کر لیا کریں