EN हिंदी
ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں | شیح شیری
udhar wo hathon ke patthar badalte rahte hain

غزل

ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں

بیکل اتساہی

;

ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں
ادھر بھی اہل جنوں سر بدلتے رہتے ہیں

بدلتے رہتے ہیں پوشاک دشمن جانی
مگر جو دوست ہیں پیکر بدلتے رہتے ہیں

ہم ایک بار جو بدلے تو آپ روٹھ گئے
مگر جناب تو اکثر بدلتے رہتے ہیں

یہ دبدبہ یہ حکومت یہ نشۂ دولت
کرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں