ٹوٹے پڑتے ہیں یہ ہیں کس کے خریدار تمام
صبح سے بند ہیں کیوں مصر کے بازار تمام
اب رہا کون جو دیدار تمہارا دیکھے
پردہ اٹھتے ہی ہوئی حسرت دیدار تمام
اک جھلک دیکھ لی پردے سے تو ظالم نے کہا
لوٹ لی تو نے مرے حسن کی سرکار تمام
حسن انداز ادا ناز نگاہیں شوخی
دل مرا چھین کے بن بیٹھے ہیں مختار تمام
اب بھی اپنا کوئی بیخودؔ مجھے سمجھا کہ نہیں
چھپ گئے اب تو مرے حال کے اخبار تمام
غزل
ٹوٹے پڑتے ہیں یہ ہیں کس کے خریدار تمام
بیخود دہلوی

