EN हिंदी
طوفاں نظر میں ہے نہ کنارا نظر میں ہے | شیح شیری
tufan nazar mein hai na kinara nazar mein hai

غزل

طوفاں نظر میں ہے نہ کنارا نظر میں ہے

محمد منشاء الرحمن خاں منشاء

;

طوفاں نظر میں ہے نہ کنارا نظر میں ہے
اک عزم معتبر کا سہارا نظر میں ہے

وہ دن گئے کہ تیرگیٔ شب کا تھا ملال
اب جلوۂ سحر کا نظارا نظر میں ہے

حسن نمود صبح کا اللہ رے کمال
بہتا ہوا وہ نور کا دھارا نظر میں ہے

کچھ ذوق پر گراں تو نہ تھا حسن کائنات
کیا کیجیئے کہ حسن تمہارا نظر میں ہے

دل کو لٹے ہوئے تو زمانہ ہوا مگر
اب بھی کسی نظر کا اشارا نظر میں ہے

اف ڈبڈباتی آنکھ سے گرتا ہوا وہ اشک
اب تک وہ ڈوبتا ہوا تارا نظر میں ہے

وہ بے رخی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں
منشاؔ مقام کچھ تو ہمارا نظر میں ہے