EN हिंदी
تو نے کچھ بھی نہ کہا ہو جیسے | شیح شیری
tu ne kuchh bhi na kaha ho jaise

غزل

تو نے کچھ بھی نہ کہا ہو جیسے

صوفی تبسم

;

تو نے کچھ بھی نہ کہا ہو جیسے
میرے ہی دل کی صدا ہو جیسے

یوں تری یاد سے جی گھبرایا
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے

اس طرح تجھ سے کئے ہیں شکوے
مجھ کو اپنے سے گلہ ہو جیسے

یوں ہر اک نقش پہ جھکتی ہے جبیں
تیرا نقش کف پا ہو جیسے

تیرے ہونٹوں کی خفی سی لرزش
اک حسیں شعر ہوا ہو جیسے