تو نے کچھ بھی نہ کہا ہو جیسے
میرے ہی دل کی صدا ہو جیسے
یوں تری یاد سے جی گھبرایا
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے
اس طرح تجھ سے کئے ہیں شکوے
مجھ کو اپنے سے گلہ ہو جیسے
یوں ہر اک نقش پہ جھکتی ہے جبیں
تیرا نقش کف پا ہو جیسے
تیرے ہونٹوں کی خفی سی لرزش
اک حسیں شعر ہوا ہو جیسے
غزل
تو نے کچھ بھی نہ کہا ہو جیسے
صوفی تبسم

