EN हिंदी
تو نہیں ہے تو ترے ہم نام سے رشتہ رکھا | شیح شیری
tu nahin hai to tere hamnam se rishta rakkha

غزل

تو نہیں ہے تو ترے ہم نام سے رشتہ رکھا

ہاشم رضا جلالپوری

;

تو نہیں ہے تو ترے ہم نام سے رشتہ رکھا
ہم نے یوں بھی دل ناکام کو زندہ رکھا

وہ مری جان کا دشمن کہ سر نہر وصال
سب کو سیراب کیا بس مجھے پیاسا رکھا

میرے مولا تری منطق بھی عجب منطق ہے
ہونٹ پہ پیاس رکھی آنکھ میں دریا رکھا

سب کے ہاتھوں کی لکیروں میں مقدر رکھ کے
رکھنے والے نے مرے ہاتھ پہ صحرا رکھا

سب کے سب لوٹ رہے تھے تری دولت رانی
میں نے تو صرف ترے شہر کا نقشہ رکھا

جس بلندی پہ رضاؔ میں نے سجائے تمغے
اس بلندی پہ ہی ٹوٹا ہوا کاسہ رکھا