EN हिंदी
تو کیا جانے تیری بابت کیا کیا سوچا کرتے ہیں | شیح شیری
tu kya jaane teri babat kya kya socha karte hain

غزل

تو کیا جانے تیری بابت کیا کیا سوچا کرتے ہیں

شمیم عباس

;

تو کیا جانے تیری بابت کیا کیا سوچا کرتے ہیں
آنکھیں موندے رہتے ہیں اور تجھ کو سوچا کرتے ہیں

دور تلک لہریں بنتی ہیں پھیلتی ہیں کھو جاتی ہیں
دل کے باسی ذہن کی جھیل میں کنکر پھینکا کرتے ہیں

ایک گھنا سا پیڑ تھا برسوں پہلے جس کو کاٹ دیا
شام ڈھلے کچھ پنچھی ہیں اب بھی منڈلایا کرتے ہیں

اکثر یوں ہوتا ہے ہوائیں ٹھٹھا مار کے ہنستی ہیں
اور کھڑکی دروازے اپنا سینہ پیٹا کرتے ہیں

تو نے بسائی ہے جو بستی اس کی باتیں تو ہی جان
یاں تو بچے اب بھی اماں ابا کھیلا کرتے ہیں