EN हिंदी
تو کوئی خواب نہیں جس سے کنارا کر لیں | شیح شیری
tu koi KHwab nahin jis se kinara kar len

غزل

تو کوئی خواب نہیں جس سے کنارا کر لیں

رانا عامر لیاقت

;

تو کوئی خواب نہیں جس سے کنارا کر لیں
کیوں نہ پہلے سے تعلق پہ گزارا کر لیں

ایسی وحشت ہے کہ کمرے میں پڑے سوچتے ہیں
کھولیں کھڑکی کوئی منظر ہی گوارا کر لیں

حاصل وصل سے دل کش ہے میاں خواہش وصل
ہجر درپیش جو ہے، اس پہ گزارا کر لیں

ہم نے تاخیر سے سیکھے ہیں محبت کے اصول
ہم پہ لازم ہے، ترا عشق دوبارہ کر لیں

یہ بھی ممکن ہے تجھے دل سے بھلا دیں، ہم لوگ
یہ بھی ممکن ہے تجھے جان سے پیارا کر لیں