EN हिंदी
تو کبھی خود کو بے خبر تو کر | شیح شیری
tu kabhi KHud ko be-KHabar to kar

غزل

تو کبھی خود کو بے خبر تو کر

محسنؔ بھوپالی

;

تو کبھی خود کو بے خبر تو کر
اپنی جانب بھی اک نظر تو کر

غلط انداز اک نگاہ سہی
میری ہستی کو معتبر تو کر

وقفۂ عمر ہے کہ عرصۂ حشر
اس مسافت کو مختصر تو کر

رہبری کا بھرم بھی رکھ لوں گا
مجھ کو مانوس رہ گزر تو کر

آئنہ آئنہ ترا پرتو
آئنہ آئنہ گزر تو کر

میں نے جس طرح زیست کاٹی ہے
ایک دن ہی سہی بسر تو کر

وقت کوہ گراں سہی محسنؔ
آب جو کی طرح سفر تو کر