EN हिंदी
تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیں | شیح شیری
tu jo paDa phirta hai aaj kahin kal kahin

غزل

تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیں

مرزا محمد تقی ہوسؔ

;

تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیں
اے دل خانہ خراب تجھ کو بھی ہے کل کہیں

چاہ بھی کیا چیز ہے سوجھتا پھر کچھ نہیں
گر وہ ہوا اک ذرا آنکھوں سے اوجھل کہیں

دل نے تو حیراں کیا روز کہے ہے یہی
رات کٹی اٹھ میاں صبح ہوئی چل کہیں

جاتا ہوں جب اس کے پاس کہتا ہے وہ اے ہوسؔ
آگے تو میرے نہ آ سامنے سے ٹل کہیں