EN हिंदी
تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح | شیح شیری
tu ek nam hai magar sada-e-KHwab ki tarah

غزل

تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح

اصغر گونڈوی

;

تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح
میں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرح

مجھے سمجھ کہ میں ہی اصل راز کائنات ہوں
دھرا ہوں تیرے سامنے کھلی کتاب کی طرح

میں کوئی گیت ہوں مگر صدا کی بندشوں میں ہوں
مرے لہو میں راگ ہے سم عذاب کی طرح

مری پناہ گاہ تھی انہی خلاؤں میں کہیں
میں سطح آب پر رہا حباب آب کی طرح

میں اصغرؔ حزیں کبھی کسی کے دوستوں میں تھا
وہ دن بھی مجھ کو یاد ہیں خیال خواب کی طرح