EN हिंदी
تو اگر بیٹیاں نہیں لکھتا | شیح شیری
tu agar beTiyan nahin likhta

غزل

تو اگر بیٹیاں نہیں لکھتا

پرتاپ سوم ونشی

;

تو اگر بیٹیاں نہیں لکھتا
تو سمجھ کھڑکیاں نہیں لکھتا

سردیاں جو تھیں سب سہیں میں نے
دھوپ کو عرضیاں نہیں لکھتا

جب شہر پوچھتا نہیں اس کو
گاؤں بھی چٹھیاں نہیں لکھتا

میں ہوا کے گناہ کے بدلے
آگ کی غلطیاں نہیں لکھتا

پیج سادہ ہی چھوڑ دیتا ہوں
میں کبھی تلخیاں نہیں لکھتا

اس میں بچے کا ہے گناہ کہاں
وہ اگر تتلیاں نہیں لکھتا