EN हिंदी
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو | شیح شیری
tumhein jab kabhi milen fursaten mere dil se bojh utar do

غزل

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو

اعتبار ساجد

;

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے رنگ اتار دو

کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ
میں بکھرگیا ہوں سمیٹ لو میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو