EN हिंदी
تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ | شیح شیری
tum se ruKHsat-talab hai mil jao

غزل

تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ

شبنم شکیل

;

تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ
کوئی اب جاں بلب ہے مل جاؤ

لوٹ کر اب نہ آ سکیں شاید
یہ مسافت عجب ہے مل جاؤ

دل دھڑکتے ہوئے بھی ڈرتا ہے
کتنی سنسان شب ہے مل جاؤ

اس سے پہلے نہیں ہوا تھا کبھی
دل کا جو حال اب ہے مل جاؤ

خواہشیں بے سبب بھی ہوتی ہیں
کیا کہیں کیا سبب ہے مل جاؤ

کون اب اور انتظار کرے
اتنی مہلت ہی کب ہے مل جاؤ