تم نے محسوس کہاں میری ضرورت کی ہے
میرے جذبوں کی کہاں تم نے حمایت کی ہے
حال پوچھا نہ کسی نے میرے آنسو پونچھے
کیا کسی سے بھی نہیں میں نے محبت کی ہے
خوش تھی میں چھوٹے سے گھر میں بھی ترے پیار کے ساتھ
میں نے کب تجھ سے کسی محل کی چاہت کی ہے
سوچتی ہوں میں یہی بیٹھ کے تنہائی میں
کیا یقیں کر کے ترا میں نے حماقت کی ہے
آج پھر شہر میں اٹھے گا کوئی ہنگامہ
آج سچ کہنے کی اک شخص نے جرأت کی ہے
کتنا روئی ہوں ترے بعد تجھے کیا معلوم
میں نے لمحوں کی ادا اس طرح قیمت کی ہے
کس طرح ملتا سیاؔ سارے زمانہ سے مزاج
بات کچھ اور نہیں بات طبیعت کی ہے
غزل
تم نے محسوس کہاں میری ضرورت کی ہے
سیا سچدیو

