EN हिंदी
تم نے جو سوچا ہے ویسا ہی سہی | شیح شیری
tumne jo socha hai waisa hi sahi

غزل

تم نے جو سوچا ہے ویسا ہی سہی

جیوتی آزاد کھتری

;

تم نے جو سوچا ہے ویسا ہی سہی
عشق جھوٹھا ہے تو جھوٹھا ہی سہی

اس سے ہر حال نبھانا ہے مجھے
وہ جو کڑوا ہے تو کڑوا ہی سہی

چاند تارے تو نہیں قسمت میں
مٹی کا ایک کھلونا ہی سہی

میرے جذبات تماشہ ہیں اگر
چل تو پھر اور تماشہ ہی سہی

اک عجب دل کو سکوں دیتا ہے
ملنا ہم دونوں کا سپنا ہی سہی

مجھ کو ہے ناز کہ کچھ تو ہوں میں
جیوتیؔ قطرہ ہے تو قطرہ ہی سہی