EN हिंदी
تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑے | شیح شیری
tum khul rahe the ghair se chhanw tale khaDe

غزل

تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑے

مرزا اظفری

;

تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑے
ہم دست رشک دھوپ میں اپنے ملے کھڑے

ہم دیکھ تم کو دوڑے کہ مل لیں گلے کھڑے
تم بھول ہم کو رہ گئے جانی بھلے کھڑے

بیٹھو جی مل کے مہندی دکھاؤ اٹھا نہ ہاتھ
ہاتھوں سے ہم تمہارے بہت ہیں جلے کھڑے

ہے ہر نفس کے ساتھ ہوائی و پھلجھڑی
یہ نخل آہ زور ہیں پھولے پھلے کھڑے

ہے ہم پہ تہمت مرض عشق اظفریؔ
ہم تم ہیں دیکھو ٹھنی سے چنگے بھلے کھڑے