تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو
پھر خود ہی مجھے ترک محبت کی سزا دو
ہمت ہے تو پھر سارا سمندر ہے تمہارا
ساحل پہ پہنچ جاؤ تو کشتی کو جلا دو
اقرار محبت ہے نہ انکار محبت
تم چاہتے کیا ہو ہمیں اتنا تو بتا دو
کھل جائے نہ آنکھوں سے کہیں راز محبت
اچھا ہے کہ تم خود مجھے محفل سے اٹھا دو
سچائی تو خود چہرے پہ ہو جاتی ہے تحریر
دعوے جو کریں لوگ تو آئینہ دکھا دو
انسان کو انسان سے تکلیف ہے اخگرؔ
انسان کو تجدید محبت کی دعا دو
غزل
تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو
حنیف اخگر

