EN हिंदी
تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو | شیح شیری
tum KHud hi mohabbat ki har ek baat bhula do

غزل

تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو

حنیف اخگر

;

تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو
پھر خود ہی مجھے ترک محبت کی سزا دو

ہمت ہے تو پھر سارا سمندر ہے تمہارا
ساحل پہ پہنچ جاؤ تو کشتی کو جلا دو

اقرار محبت ہے نہ انکار محبت
تم چاہتے کیا ہو ہمیں اتنا تو بتا دو

کھل جائے نہ آنکھوں سے کہیں راز محبت
اچھا ہے کہ تم خود مجھے محفل سے اٹھا دو

سچائی تو خود چہرے پہ ہو جاتی ہے تحریر
دعوے جو کریں لوگ تو آئینہ دکھا دو

انسان کو انسان سے تکلیف ہے اخگرؔ
انسان کو تجدید محبت کی دعا دو