EN हिंदी
تم اک ایسے شخص کو پہچانتے ہو یا نہیں | شیح شیری
tum ek aise shaKHs ko pahchante ho ya nahin

غزل

تم اک ایسے شخص کو پہچانتے ہو یا نہیں

مرتضیٰ برلاس

;

تم اک ایسے شخص کو پہچانتے ہو یا نہیں
جس کا چہرہ بولتا ہے اور لب گویا نہیں

صبح کو دیکھا تو دو گھاؤ مرے چہرے پہ تھے
رات کچھ رونے کی خواہش تھی مگر رویا نہیں

پھیلتا جاتا ہے خود رو سبزۂ غم چار سو
کھیت وہ کاٹوں گا جو میں نے کبھی بویا نہیں

خواب دیکھا تھا کوئی بچپن کی کچی نیند میں
دوستو پھر چین سے میں آج تک سویا نہیں

زینت ملبوس ہستی بڑھ گئی جس داغ سے
زندگی بھر میں نے ایسے داغ کو دھویا نہیں