EN हिंदी
تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں | شیح شیری
tum hamare ho hum tumhaare hain

غزل

تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں

افضل الہ آبادی

;

تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں
جیسے دریا کے دو کنارے ہیں

روٹھے روٹھے سے سب نظارے ہیں
اک ہمیں ہیں جو غم کے مارے ہیں

وہ ملاتے ہیں نظر ہم سے
اور کہتے ہیں ہم تمہارے ہیں

حوصلہ ہے ہمارے دل میں ابھی
ہم کہاں زندگی سے ہارے ہیں

کیا بتائیں کہ تیری فرقت میں
کس طرح ہم نے دن گزارے ہیں

اس کو میری کبھی ستائے کیوں
جس کے دامن میں چاند تارے ہیں

ہم کو افضلؔ ہے آسرا اس کا
کیسے کہہ دیں کہ بے سہارے ہیں