EN हिंदी
تم ہمارے دل شیدا کو نہیں جانتے کیا | شیح شیری
tum hamare dil-e-shaida ko nahin jaante kya

غزل

تم ہمارے دل شیدا کو نہیں جانتے کیا

بیخود دہلوی

;

تم ہمارے دل شیدا کو نہیں جانتے کیا
اور غیروں کی تمنا کو نہیں جانتے کیا

کہیں ہوتا بھی ہے جاں بخش لب عہد شکن
تیرے اس جھوٹے مسیحا کو نہیں جانتے کیا

پہلے دل تھام لو پھر آئینہ تم ہاتھ میں لو
اپنے حسن رخ زیبا کو نہیں جانتے کیا

کر نہ دیں اس کو مکدر کہیں آہ بیخودؔ
آپ اس آئینہ سیما کو نہیں جانتے کیا