EN हिंदी
تم اپنے عاشقوں سے کچھ نہ کچھ دل بستگی کر لو | شیح شیری
tum apne aashiqon se kuchh na kuchh dil-bastagi kar lo

غزل

تم اپنے عاشقوں سے کچھ نہ کچھ دل بستگی کر لو

نوح ناروی

;

تم اپنے عاشقوں سے کچھ نہ کچھ دل بستگی کر لو
کسی سے دشمنی کر لو کسی سے دوستی کر لو

نرالی ہم نے یہ تہذیب دیکھی بزم جاناں میں
عدو بھی سامنے آئے تو اس کو بندگی کر لو

یہ کیا ہر بات پر دھمکی ہے ہم تجھ سے سمجھ لیں گے
ہمارے حق میں جو کچھ تم کو کرنا ہو ابھی کر لو

ادب زاہد کا ہے اتنا بہت اے اہل مے خانہ
جب آنکھیں چار ہو جائیں تو جھک کر بندگی کر لو