تم اپنے عاشقوں سے کچھ نہ کچھ دل بستگی کر لو
کسی سے دشمنی کر لو کسی سے دوستی کر لو
نرالی ہم نے یہ تہذیب دیکھی بزم جاناں میں
عدو بھی سامنے آئے تو اس کو بندگی کر لو
یہ کیا ہر بات پر دھمکی ہے ہم تجھ سے سمجھ لیں گے
ہمارے حق میں جو کچھ تم کو کرنا ہو ابھی کر لو
ادب زاہد کا ہے اتنا بہت اے اہل مے خانہ
جب آنکھیں چار ہو جائیں تو جھک کر بندگی کر لو
غزل
تم اپنے عاشقوں سے کچھ نہ کچھ دل بستگی کر لو
نوح ناروی

