EN हिंदी
تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوں | شیح شیری
tujhe ai shola-ru kab chhoDta hun

غزل

تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوں

جوشش عظیم آبادی

;

تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوں
جلے دل کے پھپھولے پھوڑتا ہوں

ذرا چل دیکھ مجھ پر تیغ ابرو
مڑے ہے تو کہ میں منہ موڑتا ہوں

رفو جب تک نہ ہووے حسب صد چاک
یہ رشتہ اشک کا کوئی توڑتا ہوں

سرشتہ دم کا جب تک ہاتھ میں ہے
اسی کو توڑتا ہوں جوڑتا ہوں