EN हिंदी
تجھ سے بچھڑوں تو یہ خدشہ ہے اکیلا ہو جاؤں | شیح شیری
tujhse bichhDun to ye KHadsha hai akela ho jaun

غزل

تجھ سے بچھڑوں تو یہ خدشہ ہے اکیلا ہو جاؤں

سلیمان خمار

;

تجھ سے بچھڑوں تو یہ خدشہ ہے اکیلا ہو جاؤں
گھور تنہائی کے جنگل کا میں حصہ ہو جاؤں

اک ترے دم سے ہی شاداب ہے یہ میرا وجود
تو نظر پھیر لے مجھ سے تو میں صحرا ہو جاؤں

دل کی دیواروں پہ مرقوم رہے نام مرا
قبل اس کے کہ میں بھولا ہوا قصہ ہو جاؤں

تو اگر دل میں بسا لے تو بنوں میں شاعر
تو جو ہونٹوں پہ سجا لے تو میں نغمہ ہو جاؤں

ایسا ہو جائے نہ سوجھے تجھے کچھ میرے سوا
ایسا ہو جائے کہ میں ہی تری دنیا ہو جاؤں

جانتا ہوں میں تری سرمئی آنکھوں کا طلسم
اک نظر مجھ پہ بھی میں بھی ترے جیسا ہو جاؤں

میں ادھورا ہوں بہت تجھ سے بچھڑ کر اے دوست
تو جو مل جائے دوبارہ تو میں سارا ہو جاؤں