EN हिंदी
تجھ کو آتے ہی نہیں چھپنے کے انداز ابھی | شیح شیری
tujhko aate hi nahin chhupne ke andaz abhi

غزل

تجھ کو آتے ہی نہیں چھپنے کے انداز ابھی

صوفی تبسم

;

تجھ کو آتے ہی نہیں چھپنے کے انداز ابھی
مرے سینے میں ہے لرزاں تری آواز ابھی

اس نے دیکھا ہی نہیں درد کا آغاز ابھی
عشق کو اپنی تمناؤں پہ ہے ناز ابھی

تجھ کو منزل پہ پہنچنے کا ہے دعویٰ ہمدم
مجھ کو انجام نظر آتا ہے آغاز ابھی

کس قدر گوش بر آواز ہے خاموشیٔ شب
کوئی نالہ کہ ہے فریاد کا در باز ابھی

مرے چہرے کی ہنسی رنگ شکستہ میرا
تیرے اشکوں میں تبسم کا ہے انداز ابھی