طغیانی سے ڈر جاتا ہوں
جسم کے پار اتر جاتا ہوں
آوازوں میں بہتے بہتے
خاموشی سے مر جاتا ہوں
بند ہی ملتا ہے دروازہ
رات گئے جب گھر جاتا ہوں
نیند ادھوری رہ جاتی ہے
سوتے سوتے ڈر جاتا ہوں
چاہے بعد میں مان بھی جاؤں
پہلی بار مکر جاتا ہوں
تھوڑی سی بارش ہوتی ہے
کتنی جلدی بھر جاتا ہوں
کتنے دنوں کی دہلیزوں سے
رات کے ساتھ گزر جاتا ہوں
غزل
طغیانی سے ڈر جاتا ہوں
ضیاء المصطفیٰ ترکؔ