EN हिंदी
توڑ کے ناتا ہم سجنوں سے پگ پگ وہ پچھتائے ہیں | شیح شیری
toD ke nata hum sajnon se pag pag wo pachhtae hain

غزل

توڑ کے ناتا ہم سجنوں سے پگ پگ وہ پچھتائے ہیں

جمیل عظیم آبادی

;

توڑ کے ناتا ہم سجنوں سے پگ پگ وہ پچھتائے ہیں
جب جب ان سے آنکھ ملی ہے تب تب وہ شرمائے ہیں

روپ نگر کو چھوڑ کے جب سے آس نگر کو آئے ہیں
صحرا صحرا دھوپ کڑی ہے پیڑ نہ کوئی سائے ہیں

جنگل جنگل آگ لگی ہے دریا دریا پانی ہے
نگری نگری تھاہ نہیں ہے لوگ بہت گھبرائے ہیں

سچائی ہے امرت دھارا سچائی انمول سہارا
سچ کے رستے چل کے سب نے ٹھور ٹھکانے پائے ہیں

دولت تو ہے آنی جانی روپ نگر کی رام کہانی
دھن کے لوگ بھی دھرتی پر کب سکھ سے رہنے پائے ہیں

شیشہ جب بھی ٹوٹے گا جھنکار فضا میں گونجے گی
جب ہی کومل دیش دلارے پتھر سے ٹکرائے ہیں

جھوٹ کا ڈنکا بجتا تھا جس وقت جمیلؔ اس نگری میں
ہر رستے ہر موڑ پہ ہم نے سچ کے علم لہرائے ہیں