EN हिंदी
تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہے | شیح شیری
to kya ek hamare liye hi mohabbat naya tajraba hai

غزل

تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہے

جواد شیخ

;

تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہے
جسے پوچھیے وہ کہے گا کہ جی ہاں بڑا تجربہ ہے

سمجھ میں نہ آئے تو میری خموشی کو دل پر نہ لینا
کہ یہ عقل والوں کی دانست سے ماورا تجربہ ہے

کٹھن تو بہت ہے مگر دل کے رشتوں کو آزاد چھوڑو
توقع نہ باندھو کہ یہ اک اذیت بھرا تجربہ ہے

مگر ہم مصر تھے کہ ہم نے کتابیں بہت پڑھ رکھی ہیں
بڑوں نے کہا بھی کہ دیکھو میاں تجربہ تجربہ ہے

وہ اپنی جگہ خوش گماں تھی کہ دائم ہے پہلی محبت
میں اپنے تئیں مطمئن تھا کہ یہ دوسرا تجربہ ہے

کسی اور کے تجربے سے کوئی فائدہ کیا اٹھائیں
محبت میں ہر تجربہ ہی الگ طرح کا تجربہ ہے