EN हिंदी
تتلیاں نیند کی پہلے تو اڑائی جائیں | شیح شیری
titliyan nind ki pahle to uDai jaen

غزل

تتلیاں نیند کی پہلے تو اڑائی جائیں

جیوتی آزاد کھتری

;

تتلیاں نیند کی پہلے تو اڑائی جائیں
پھر ہمیں خوابوں کی تعبیریں بتائی جائیں

حوصلوں کی لیے پتوار لڑے موجوں سے
کشتیاں ایسی سمندر میں چلائی جائیں

درد نے دل پہ مرے پھر سے لگائی دستک
اس کی راہیں سبھی پھولوں سے سجائی جائیں

لکھ گئے میر تقی میرؔ سخنور غالبؔ
گیت غزلیں وہ زمانہ کو سنائی جائیں

کر دے رسوا جو ہمیں سب کی نظر میں جیوتیؔ
باتیں کہتی ہوں وہ خود سے بھی چھپائی جائیں