تری تلاش میں گزرے کئی زمانے مجھے
خدا ہی جانے تو جانے ہے یا نہ جانے مجھے
دھواں دھواں ہیں جہاں پر خیال کی راہیں
مثال گرد اڑایا تری ہوا نے مجھے
نہ اس طرح مجھے دیکھو کہ جیسے پتھر ہوں
جو ہو سکے تو پکاروں کسی بہانے مجھے
وہ بات بات پہ ہنسنا تری ادا ہی سہی
تمام عمر رلایا ہے اس ادا نے مجھے
لگا ہے جب بھی کوئی زخم مسکرایا ہوں
یہ تاب دی ہے ترے درد لا دوا نے مجھے
تصورات کے صحرا میں جل بجھا ہوں سلیمؔ
نہ چھاؤں بخشی کسی حسن گل ردا نے مجھے

غزل
تری تلاش میں گزرے کئی زمانے مجھے
سلیم کاشیر