EN हिंदी
تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میں | شیح شیری
teri nisbat se apni zat ka idrak karne mein

غزل

تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میں

عبید صدیقی

;

تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میں
بہت عرصہ لگا ہے پیرہن کو چاک کرنے میں

تری بستی کے باشندے بہت آسودہ خاطر ہیں
تکلف ہو رہا ہے درد کو پوشاک کرنے میں

ہم اپنے جسم کا سونا سفر پر لے کے نکلے ہیں
مگر ڈرتے ہیں اس کو راستوں کی خاک کرنے میں

فقط اک دیدۂ تر ہے کہ جو سیراب کرتا ہے
سمندر سوکھ جاتے ہیں بدن نمناک کرنے میں

ہمارے ساتھ کچھ گزرے ہوئے موسم بھی شامل ہیں
تماشا گاہ عالم تجھ کو عبرت ناک کرنے میں