EN हिंदी
تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے | شیح شیری
teri justuju mein nikle to ajab sarab dekhe

غزل

تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے

جمیل ملک

;

تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے
کبھی شب کو دن کہا ہے کبھی دن میں خواب دیکھے

مرے دل میں اس طرح ہے تری آرزو خراماں
کوئی نازنیں ہو جیسے جو کھلی کتاب دیکھے

جسے میری آرزو ہو جو خراب کو بہ کو ہو
مجھے دیکھنے سے پہلے تجھے بے نقاب دیکھے

جسے کچھ نظر نہ آیا ہو جہاں رنگ و بو میں
وہ کھلا گلاب دیکھے وہ ترا شباب دیکھے

دو جہاں کو لا ڈبوئے وہ ذرا سی آب جو میں
تری چشم سرمگیں کو جو کوئی پر آب دیکھے

یوں ٹھہر ٹھہر کے گزری شب انتظار یارو
کہ سحر کے ہوتے ہوتے کئی ہم نے خواب دیکھے

مجھے دیکھنا ہو جس کو مرے حال پر نہ جائے
مرا ذوق و شوق دیکھے مرا انتخاب دیکھے