EN हिंदी
ترے قد تھے سرو تازہ ہے جم | شیح شیری
tere qad the sarw taza hai jam

غزل

ترے قد تھے سرو تازہ ہے جم

قلی قطب شاہ

;

ترے قد تھے سرو تازہ ہے جم
او چایا ہے یا نو چمن میں علم

تو ہے چند تارے ہیں لشکر ترے
توں ہے شاہ خوباں میں تیرا حشم

ورق صنع پرنیں لکھیا تج سا ہور
ازل کے مصور کا ہرگز قلم

سکندر کوں تھی آرسی جم کوں جام
ترے ہست ہے درپن ہور جام جم

ترے مکھ کے پھل بن کوں دیکھ لاج تھے
چھپایا ہے مکھ آپنے کوں ارم