EN हिंदी
ترے خیال تری آرزو سے دور رہے | شیح شیری
tere KHayal teri aarzu se dur rahe

غزل

ترے خیال تری آرزو سے دور رہے

ہاشم رضا جلالپوری

;

ترے خیال تری آرزو سے دور رہے
نواب ہو کے بھی ہم لکھنؤ سے دور رہے

بدن کے زخم تو چارہ گروں نے سی ڈالے
مگر یہ روح کے چھالے رفو سے دور رہے

زمیں پہ ٹپکا تو یہ انقلاب لائے گا
اسے بتا دو، وہ میرے لہو سے دور رہے

کیا ہے ہم نے تیمم بھی خاک مقتل پر
نماز عشق پڑھی اور وضو سے دور رہے

مری زبان کا چرچا تھا آسمانوں پر
زمین والے مری گفتگو سے دور رہے