ترے خیال کا شعلہ تھما تھما سا تھا
تمام شہر تمنا بجھا بجھا سا تھا
نہ جانے موسم تلوار کس طرح گزرا
مرے لہو کا شجر تو جھکا جھکا سا تھا
ہمیں بھی نیند نے تھپکی دی سو گئے تم بھی
تمام حادثۂ شب سنا سنا سا تھا
بلائے شام کے سائے تھے اور وادئ دل
اگرچہ صبح کا چہرہ دھلا دھلا سا تھا
چراغ منزل دل پر جلا کے کیا کرتے
وفا کا قافلہ کب سے رکا رکا سا تھا
وہ نام جس کے لیے زندگی گنوائی گئی
نہ جانے کیا تھا مگر کچھ بھلا بھلا سا تھا
غزل
ترے خیال کا شعلہ تھما تھما سا تھا
مظہر امام

