EN हिंदी
ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا | شیح شیری
tere baad koi bhi gham asar nahin kar saka

غزل

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا

اظہر فراغ

;

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا
کوئی سانحہ مری آنکھ تر نہیں کر سکا

مجھے علم تھا مجھے کم پڑے گی یہ روشنی
سو میں انحصار چراغ پر نہیں کر سکا

مجھے جھوٹ کے وہ جواز پیش کیے گئے
کسی بات پر میں اگر مگر نہیں کر سکا

مجھے چال چلنے میں دیر ہو گئی اور میں
کوئی ایک مہرہ ادھرادھر نہیں کر سکا

کئی پیکروں کو مرے خیال نے شکل دی
جنہیں رونما مرا کوزہ گر نہیں کر سکا

مرے آس پاس کی مفلسی مری معذرت
ترا انتظام میں اپنے گھر نہیں کر سکا