EN हिंदी
ترا وصال ہے بہتر کہ تیرا کھو جانا | شیح شیری
tera visal hai behtar ki tera kho jaana

غزل

ترا وصال ہے بہتر کہ تیرا کھو جانا

اسعد بدایونی

;

ترا وصال ہے بہتر کہ تیرا کھو جانا
نہ جاگنا ہی میسر مجھے نہ سو جانا

یہ سب فریب ہے میں کیا ہوں میری چاہت کیا
جو ہو سکے تو مری طرح تو بھی ہو جانا

ہنسی میں زخم چھپانے کا فن بھی زندہ ہے
اسی خیال سے سیکھا نہ میں نے رو جانا

اداس شہر میں زندہ دلی کی قیمت کیا
بجا ہے میری ہنسی کا غبار ہو جانا

حسین تجھ سے زیادہ بھی ہیں زمانے میں
برا ہے آنکھ کا پابند رنگ ہو جانا