طلسم کوہ ندا جب بھی ٹوٹ جائے گا
تو کاروان صدا بھی پلٹ کے آئے گا
کھنچی رہیں گی سروں پر اگر یہ تلواریں
متاع زیست کا احساس بڑھتا جائے گا
ہوائیں لے کے اڑیں گی تو برگ آوارہ
نشان کتنے نئے راستوں کا پائے گا
میں اپنے قتل پہ چیخا تو دور دور تلک
سکوت دشت میں اک ارتعاش آئے گا
کواڑ اپنے اسی ڈر سے کھولتے نہیں ہم
سوا ہوا کے انہیں کون کھٹکھٹائے گا
ہوائیں گرد سے ہر راستے کو ڈھک دیں گی
ہمارے بعد کوئی قافلہ نہ جائے گا
یوں ہی ڈبوتا رہا کشتیاں اگر سیلاب
تو سطح آب پہ چلنا بھی آ ہی جائے گا
غزل
طلسم کوہ ندا جب بھی ٹوٹ جائے گا
منظور ہاشمی

