طلسم ہوشربا میں پتنگ اڑتی ہے
کسی عقب کی ہوا میں پتنگ اڑتی ہے
چڑھے ہیں کاٹنے والوں پہ لوٹنے والے
اسی ہجوم بلا میں پتنگ اڑتی ہے
پتنگ اڑانے سے کیا منع کر سکے زاہد
کہ اس کی اپنی عبا میں پتنگ اڑتی ہے
یہ آپ کٹتی ہے یا کاٹتی ہے دوسری کو
بس ایک بیم و رجا میں پتنگ اڑتی ہے
کہیں چھتوں پہ بپا ہے بسنت کا تہوار
کہیں پہ تنگئ جا میں پتنگ اڑتی ہے
کہیں فلک پہ سرکتی ہے سرسراتی ہوئی
کہیں دلوں کی فضا میں پتنگ اڑتی ہے
کھلا ہے اس پہ کچھ ایسے بہار کا موسم
ہے رخ پہ رنگ قبا میں پتنگ اڑتی ہے
یہ خواب ہے کہ الجھتا ہے اور خوابوں سے
یہ چاند ہے کہ خلا میں پتنگ اڑتی ہے
امید وصل میں سو جائیں ہم کبھی جو ظفرؔ
تو اپنی خواب سرا میں پتنگ اڑتی ہے
غزل
طلسم ہوشربا میں پتنگ اڑتی ہے
ظفر اقبال