EN हिंदी
ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے | شیح شیری
Tik ke baiThe kahan bezar-tabiat humse

غزل

ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے

شفیق سلیمی

;

ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے
چھین ہی لے نہ کوئی آ کے یہ نعمت ہم سے

بر سر عام یہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹے ہیں
اس بھرے شہر میں زندہ ہے صداقت ہم سے

ہم جو مظلوم ہیں اک طرح سے ظالم ہیں ہم
ہر ستم گار کے بازو میں ہے طاقت ہم سے

دیکھ پائے نہ تو آنکھیں ہی بجھا لیں ہم نے
اور کیا چاہتا ہے لفظ شرافت ہم سے

ہر گھڑی سر کو ہتھیلی پہ سجائے رکھنا
گرمیٔ رونق بازار ہلاکت ہم سے

یعنی قاتل کے لیے رحم کا جذبہ مفقود
اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی عداوت ہم سے

ہم زمیں زاد فلک زاد نہیں ہیں پھر بھی
فن کی معراج پہ ہے لفظ کی حرمت ہم سے