تیرگی ہے صحن میں تابندگی دیوار پر
آئنے جڑتی رہی ہے زندگی دیوار پر
سب جلال منصبی سیل فنا لے جائے گا
لاکھ ہم لکھتے رہیں پائندگی دیوار پر
ظلمتیں امڈیں کچھ ایسے کھا گئیں حرفوں کا نور
خون دل سے کی تھی کچھ رخشندگی دیوار پر
بام و در کو دیکھتی رہتی ہیں میری حسرتیں
کون چسپاں کر گیا شرمندگی دیوار پر
دو گھڑی سائے میں وہ ٹھہرا تھا لیکن آج تک
ہے عجب اک عالم رقصندگی دیوار پر
عمر بھر ہم نے کیے ہیں جمع مردہ تجربے
اور سمجھتے ہیں کہ لکھ دی زندگی دیوار پر
غزل
تیرگی ہے صحن میں تابندگی دیوار پر
محسن احسان