EN हिंदी
تیر نظروں کے ہم پہ چلاتے رہو | شیح شیری
tir nazron ke hum pe chalate raho

غزل

تیر نظروں کے ہم پہ چلاتے رہو

جیوتی آزاد کھتری

;

تیر نظروں کے ہم پہ چلاتے رہو
جھوٹی الفت سہی پر جتاتے رہو

اس طرح پیار مجھ سے نبھاتے رہو
دل میں خوشبو کے جیسے بساتے رہو

میں خفا ہوں کبھی تم خفا ہو کبھی
پیار کا سلسلہ یوں بڑھاتے رہو

میں نے تو لکھ دیا نام دل پہ ترے
گر مٹانا ہو ممکن مٹاتے رہو

آ نہ جائے گماں مجھ میں جھوٹھا کوئی
تم حقیقت کا درپن دکھاتے رہو

پتھروں کو نہ احساس ہوگا کبھی
رات دن اشک چاہے بہاتے رہو