تھوڑا سا زندگی کا خسارہ ضرور ہے
پر غم نے دل کا رنگ نکھارا ضرور ہے
مہتاب پھر رہا ہے خلاؤں میں اس طرح
جیسے کہ آسماں کا کنارہ ضرور ہے
عالم میں دیکھیے تو کوئی بھی خدا نہیں
عالم خدا کی سمت اشارہ ضرور ہے
ہم کو یقیں ہے آپ کو دل کی کتاب میں
اک ان لکھے سا نام ہمارا ضرور ہے
کیا جانئے وہ شوخ سمندر ہے یا سراب
جو بھی ہو تشنگی کا سہارا ضرور ہے
ویسے مری زباں پہ کوئی اور لفظ تھا
پر دوست کہہ کے تجھ کو پکارا ضرور ہے
کچھ شعر کہہ کے ہم کو گماں یہ ہوا مینکؔ
اک آسماں زمیں پہ اتارا ضرور ہے
غزل
تھوڑا سا زندگی کا خسارہ ضرور ہے
مینک اوستھی

