EN हिंदी
ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے | شیح شیری
Thikane yun to hazaron tere jahan mein the

غزل

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے

آشفتہ چنگیزی

;

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے
کوئی صدا ہمیں روکے گی اس گمان میں تھے

عجیب بستی تھی چہرے تو اپنے جیسے تھے
مگر صحیفے کسی اجنبی زبان میں تھے

بہت خوشی ہوئی ترکش کے خالی ہونے پر
ذرا جو غور کیا تیر سب کمان میں تھے

علاج ڈھونڈھ نکالیں گے اپنی وحشت کا
جنوں نواز ابھی تک اسی گمان میں تھے

ہم ایک ایسی جگہ جا کے لوٹ کیوں آئے
جہاں سنا ہے کہ سب آخری زمان میں تھے