EN हिंदी
تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں | شیح شیری
thakan se chur hun lekin rawan-dawan hun main

غزل

تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں

عزیز بانو داراب وفا

;

تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں
نئی سحر کے چراغوں کا کارواں ہوں میں

ہوائیں میرے ورق لوٹ لوٹ دیتی ہیں
نہ جانے کتنے زمانوں کی داستاں ہوں میں

ہر ایک شہر نگاراں سمجھ رہا ہے مجھے
ذرا قریب سے دیکھو دھواں دھواں ہوں میں

کسی سے بھیڑ میں چہرہ بدل گیا ہے مرا
تو سارے آئنہ خانوں سے بد گماں ہوں میں

میں اپنی گونج میں کھوئی ہوں ایک مدت سے
مجھے خبر نہیں کچھ کون ہوں کہاں ہوں میں

خود اپنی دید سے محروم ہے نظر میری
ازل سے صورت نظارہ درمیاں ہوں میں

مرا وجود و عدم راز ہے ہمیشہ سے
وہاں وہاں بھی نہیں ہوں جہاں جہاں ہوں میں